ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلوروشہر میں گندگی کی نکاسی میں 400 کروڑ کا گھپلہ، سی آئی ڈی کے ذریعے جانچ کرانے نائب وزیراعلیٰ کا اشارہ

بنگلوروشہر میں گندگی کی نکاسی میں 400 کروڑ کا گھپلہ، سی آئی ڈی کے ذریعے جانچ کرانے نائب وزیراعلیٰ کا اشارہ

Fri, 02 Nov 2018 23:56:04    S.O. News Service

بنگلورو، 2؍نومبر(ایس او نیوز) شہر میں جابجا گندگی کی صفائی کے لئے بی بی ایم پی کو ہائی کورٹ کی طرف سے سخت لتاڑ اور شہر میں جابجا فلیکس اور بیانرس ہٹانے کے لئے سخت عدالتی کارروائی کے بعد آج نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے صورتحال کا جائزہ لیا اور فلیکس اور بیانرس روکنے کے لئے بی بی ایم پی کی طرف سے کی گئی کارروائی پر اطمینان ظاہر کرنے کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ جلد از جلد بی بی ایم پی کی اشتہاری پالیسی وضع کرتے ہوئے اشتہاری مافیا کو ختم کیاجائے۔

اس کے ساتھ ہی شہر میں گندگی کی نکاسی میں بارہا خامیوں کے ابھرنے کی شکایت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں گندگی کی نکاسی سے جڑے مافیا کو ختم کرنے کی بھی اشدت ضرورت ہے۔ گندگی کی نکاسی کے نام پر بی بی ایم پی میں 400کروڑ روپیوں کی دھاندلی کے متعلق تفصیلات فراہم کئے جانے پر نائب وزیراعلیٰ نے رائے ظاہر کی کہ اس معاملے کی جانچ سی آئی ڈی کے سپرد کی جائے۔شہر میں گندگی کی نکاسی کا ذمہ جن کنٹراکٹروں کو بارہا ہدایت دی جارہی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں میں جی پی ایس لگائیں، اس کے باوجود بھی جی پی ایس لگائے بغیر گندگی کی نکاسی کے بلوں کو منظور کروارہے ہیں۔ یہ اندیشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ گاڑیوں کے استعمال کے بغیر جن بلوں کو منظور کرایا جارہاہے ان کی رقم پانچ سو کروڑ روپیوں سے متجاوز ہوسکتی ہے۔اسی لئے بی بی ایم پی افسروں نے خود نائب وزیراعلیٰ کو مشورہ دیا ہے کہ یہ معاملہ سی آئی ڈی کے سپرد کردیا جائے ۔

شہر میں ایک اندازے کے مطابق روزانہ چار ہزار میٹرک ٹن کچرے کی نکاسی کی جاتی ہے، اس کچرے کی نکاسی کا ذمہ ٹنڈروں کے ذریعے الگ الگ کنٹراکٹروں کو تقسیم کی گئی ہے۔ اس کنٹراکٹ کے تحت آٹو رکشا اور ٹپرس کے ذریعے گندگی کی نکاسی کی جاتی ہے۔ کہاجاتاہے کہ روزانہ گندگی کی نکاسی کے لئے شہر بھر میں 3400گاڑیاں استعمال میں لائی جاتی ہیں۔ ماہانہ ایک آٹو رکشا کو بی بی ایم پی کی طرف سے 60ہزار روپے اور ٹپر کو ایک لاکھ روپے ادا کئے جاتے ہیں ، لیکن کچھ کنٹراکٹروں کی طرف سے آٹو رکشا اور ٹپر کا استعمال کئے بغیر ہی بلس منظور کروائے جاتے ہیں اس میں بی بی ایم پی کے بعض افسروں کی ملی بھگت کا شبہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ گاڑیوں میں جی پی ایس لگانے کی پابندی کے بعد صرف دوہزار 600گاڑیوں میں جی پی ایس لگایا گیا ہے، باقی ایک ہزار گاڑیوں میں جی پی ایس کی تنصیب نہیں ہوئی ہے۔

نائب وزیراعلیٰ کو بی بی ایم پی افسروں نے یہ تمام تفصیلات دیں اور بتایاکہ جلد از جلد ان کی جانچ کرائی جانی چاہئے، ورنہ بی بی ایم پی کو جو نقصان ہورہاہے وہ اور بھی بڑھ سکتاہے۔کچھ عرصے قبل بی بی ایم پی کونسل میٹنگ میں بھی پارٹی امتیازات سے بالاتر ہوکر کارپوریٹروں نے گندگی کی نکاسی میں مبینہ کوتاہیوں کی نشاندہی کی تھی اور کنٹراکٹروں کی باز پرس کرنے کا مشورہ دینے کے ساتھ یہ بھی مطالبہ کیا تھاکہ شہر کے سبھی وارڈوں میں گندگی کی نکاسی کے متعلق اے سی بی کے ذریعے جانچ کرائی جائے۔ اس کے بعد بی بی ایم پی میں داخلی سطح پر اکھٹا کی گئی معلومات کی بنیاد پر ایک رپورٹ آج نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر پرمیشور کے سامنے لائی گئی اور انہیں مشورہ دیا گیا کہ اس معاملے کی جانچ سی آئی ڈی کے ذریعے کروائی جائے۔ 


Share: